اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدر اسلامی جمہوریہ ایران حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں منعقدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے 2013 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسرائیل کو ـ این پی ٹی کی واحد غیر رکن ریاست کے طور پر ـ کسی تاخیر کے بغیر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) میں شامل ہونا چاہئے۔ انھوں نے غیر وابستہ تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے اس تحریک کی جانب سے تجویز پیش کی کہ 26 ستمبر کو "تمام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا بین الاقوامی دن" قرار دیا جائے۔ انھوں نے بعض غیر جوہری ممالک کی طرف سے جوہری ہتھیاروں سے رضاکارانہ کنارہ کشی یا جوہری ممالک کی طرف سے ان ہتھیاروں کو تلف کرنے کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کا یہ اقدام جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: میں غیر وابستہ تحریک کی طرف سے تمام جوہری ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ ان علاقوں سے متعلق تمام علاقوں کے لئے اضافی پروٹوکولز (Additional Protocols) منظور کریں اور ہر اس اعلامیئے کو منسوخ کریں جو ان پروٹوکولز کے اہداف متصادم ہوں اور ان ممالک کی غیر جوہری حالت کو محترم سمجھیں۔ صدر روحانی نے کہا: میں اصرار کے ساتھ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے چاہتا ہوں کہ جنوب مشرق ایشیا میں جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقے سے متعلق پروٹوکول پر دستخط کریں۔انھوں نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ مغربی ایشیا (مشرق وسطی) میں جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقے کے قیام کے لئے چار عشروں پر محیط بین الاقوامی کوششیں ناکام رہیں ہیں جبکہ اس حوالے سے فوری اور بلاتاخیر اقدامات کی ضرورت ہے۔ صدر روحانی نے زور دے کر کہا: اسرائیل اس علاقے میں این پی ٹی کی غیر رکن ریاست کی حیثیت سے کسی تاخیر کے بغیر این پی ٹی میں شام ہونا چاہئے تاکہ علاقے میں ہونے والی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے جامع حفاظتی اقدامات (Comprehensive Safeguards) کے تحت قرار پائیں۔ انھوں نے کہا: غیر وابستہ ممالک مشرق وسطی میں اس علاقے کے ممالک کی شراکت سے غیر جوہری علاقے کے قیام کے خواہاں ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کی جاسکے۔ انھوں نے کہا: دنیا ایک طویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کا انتظار کررہی ہے چنانچہ نہ تو نامحدود مدت تک جوہری ہتھیار رکھنا، قابل برداشت ہے اور نہ ہی ان ہتھیاروں کو تلف کرنے کے عمل کو اس سے زیادہ مؤخر کیا جاسکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا: ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں بنیادی ذمہ داری ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک پر عائد ہوتی ہے اور میں غیر وابستہ تحریک کی طرف سے یہ ممالک اس حوالے سے اپنے قانونی وعدوں کی پابندی کریں جن پر عمل درآمد کو پہلے ہی طویل عرصے تک ملتوی کیا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا: یہ ملک دنیا کو غیر جوہری دنیا بنانے کے پابند ہیں اور یہ پابندیاں مزید مؤخر نہيں ہونی چاہئیں۔ انھوں نے کہا: جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عمل اور ان کا عدم پھیلاؤ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ان دونوں اقدامات کو بیک وقت آگے بڑھایا جائے؛ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا جواز یہی ہے کہ اس کا عظیم تر مقصد ان ہتھیاروں کا خاتمہ ہے۔ انھوں نے کہا: جوہری عدم پھیلاؤ کا عمل امتیازی رویئے اپنائے بغیر آگے بڑھانا چاہئے؛ جب تک جوہری اسلحہ ہوگا ان کے استعمال کا خطرہ بھی رہے گا اور دوسرے ممالک کو ان ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری رہے گیا لہذا عدم پھیلاؤ اور ایٹمی اسلحے کا عدم پھیلاؤ درحقیقت انہیں تلف کرنے کے کی ضمانت دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: جب تک جہوری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عمل شروع نہیں کیا جاتا ان ہتھیاروں کے حامل ملکوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ کسی بھی غیر جوہری ملک کو ان ہتھیاروں کے استعمال کی دھممکی نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا: میں زور دے کر کہتا ہوں کہ موجودہ سیکورٹی ضمانتیں کافی نہيں ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ایک جامع بین الاقوامی قانون منظور ہونا چاہئے جس کے تحت کوئی بھی ملک دوسرے کو دھمکی نہ دے اور اگر ایسی دھمکی دے تو ان کی گرفت ممکن ہو۔ انھوں نے کہا: میں تاکید کرنا چاہتا ہوں کہ جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا مطالبہ غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک کا بنیادی مطالبہ ہے جس کے لئے یہ تحریک ایک روڈ میپ دینا چاہتا ہے اور وہ روڈ میپ یہ ہے کہ: ــ ابتداء میں جلد از جلد ایٹمی تخفیف اسلحہ کے اجلاس میں جوہری ہتھیار رکھنے، ان کی مالکیت، انہیں ترقی دینے، بنانے، حاصل کرنے، ٹیسٹ کرنے، ذخیرہ کرنے، منتقل کرنے، انہیں استعمال کرنے اور ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی دھمکی دینے کو ممنوع کرنے کے مقصد سے جامع جوہری کنونشن کو زیر بحث لایا جائے اور اس بحث کے ذريعے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی عملی ضمانت فراہم کی جائے۔ ــ غیر وابستہ تحریک تجویز کے مطابق ہر سال 26 ستمبر کو "تمام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا بین الاقوامی دن" قرار دیا جائے۔ ــ تمام ممالک، سوشل سوسائٹی، جامعات، علمی و سائنسی مراکز اور ذرائع ابلاغ ہاتھ میں ہاتھ دیں تا کہ اس اعلی مقاصد کی تکمیل ممکن ہوسکے۔ ــ اگلے پانچ سالوں کے دوران ممالک کے اعلی حکام کی سطح پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کرکے جوہری تخفیف اسلحہ کے عمل میں پیشرفت کا جائزہ لیا جائے۔ صدر نے کہا: عیر وابستہ تحریک اس حوالے سے ایک قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کرے گی اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب اس قرارداد کی حمایت کریں گے۔ انھوں نے کہا: کسی بھی قوم جوہری اسلحہ نہیں رکھنا چاہئے اور سیکریٹری جنرل نے بجا فرمایا کہ دنیا بھی کوئی پاک ہاتھ ان ناپاک ہتھیاروں کو اپنے پاس رکھنے کے لئے، موجود نہيں ہے۔ صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے آخر میں کہا: غیر وابستہ تحریک نے عزم کررکھا ہے کہ وہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے کسی بھی اقدام سے فروگذاشت نہیں کرے گی۔ انھوں نے ممالک کے مندوبین کو دعوت دیتے ہوئے کہا: آئیں ہم سب اپنے مالی ذرائع کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے بجائے اپنے ممالک کو ترقی دینے اور غربت، ناخواندگی اور امراض کے خاتمے کے لئے خرچ کریں۔ صدر روحانی نے ان الفاظ سے اپنی تقریر کو مکمل کیا: "آئیں اپنے پیچھے جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کو ایک یادگار کے طور پر اپنی اگلی نسلوں کے لئے چھوڑ دیں، یہ ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی؛ آئیں ثابت کرکے دکھائیں کہ ہم متحدہ قومیں ہیں، متحدہ قومیں امن کی راہ میں"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اجلاس 2013 سے خطاب؛
صدر روحانی: اسرائیل فوری طور جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے میں شامل ہو
25 ستمبر 2013 - 20:30
News ID: 467016
صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: دنیا میں کسی قوم کے پاس بھی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئے اور اسرائیل کو فوری طور پر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل ہونا چاہئے۔